نیویارک ، 22؍ستمبر (ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا )پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کشمیر میں ہونے والے پرتشدد واقعات کی تحقیقات اقوامِ متحدہ کے فیکٹ فائنڈنگ مشن کے ذریعے کروائے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔یہ بات انھوں نے بدھ کو نیو یارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 71ویں اجلاس میں خطاب کے دوران کہی۔وزیراعظم محمد نواز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان ہندوستان کے ساتھ امن چاہتا ہے اور بات چیت دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے تاہم کشمیر کے مسئلے کے حل کے بغیر امن ممکن نہیں ہے۔انھوں نے کہا کہ وہ مطالبہ کرتے ہیں کہ ہندوستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں ماورائے عدالت قتل کے واقعات کی آزادانہ تحقیقات کی جائے اور اقوام متحدہ کے فیکٹ فائنڈنگ مشن کو کشمیر بھجوایا جائے تاکہ وہ ہندوستان کے بہیمانہ تشدد کی تحقیقات کریں اور ذمہ داران کو سزا دی جائے۔انہوں نے سیاسی قیدیوں کی رہائی، کرفیو کے خاتمے اور زخمیوں کو طبی امداد کی فراہمی کا مطالبہ بھی کیا ۔نواز شریف کا کہنا تھا کہ ہندوستان کی جانب سے ناقابلِ قبول پیشگی شرائط باہمی مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ جموں و کشمیر میں نوجوان نسل ہندوستان کے غیر قانونی قبضے کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی ہے۔اپنے خطاب میں انھوں نے انڈیا کو تمام متنازع مسائل پر مذاکرات کی دعوت دی اور کہا کہ پاکستان غیر مشروط طور پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان نیوکلئیر سپلائر گروپ کی رکنیت کی اہلیت رکھتا ہے اور ایٹمی تجربات روکنے کے معاہدے پر بات چیت کے لیے بھی تیار ہے۔نواز شریف نے ہندوستان پر الزام عائد کیا کہ وہ ہتھیار جمع کر رہا ہے اور پاکستان کو اس پر تشویش ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ہندوستان کے ساتھ ہتھیاروں کی دوڑ نہیں چاہتا۔
ادھر ہندوستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان وکاس سورپ نے پاکستانی وزیراعظم کے خطاب پر تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے سب سے بڑے فورم پر پاکستانی وزیراعظم نے حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی ستائش کی ہے۔ یہ پاکستان کے دہشت گردوں کے ساتھ مسلسل جڑے رہنے کو ظاہر کرتا ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مذاکرات کے لیے ہندوستان کی شرط صرف دہشت گردی کا خاتمہ ہے۔انھوں نے اوڑی میں ہونے والے حملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی وزیراعظم نے اس سے بالکل لاتعلقی ظاہر کی ہے جبکہ سرحد سے رواں برس 19بار دراندازی کی گئی ہے۔سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف نے خطے کی موجودہ صوتحال کے پیشِ نظر جمعرات کو بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف سے ٹیلی فون پر تبادلہ خیال بھی کیا تھا۔بعدازاں اقوامِ متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون سے بھی ملاقات میں پاکستانی وزیراعظم نے انھیں ہندوستانی فوج کے ہاتھوں کشمیریوں کی ہلاکتوں کے ثبوت دئیے ۔وزیراعظم کے دفتر کے مطابق انھوں نے سکریٹری جنرل کو ظلم وستم کا شکار بننے والے کشمیریوں کی تصاویر بھی دکھائیں۔خیال رہے کہ ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں اڑی سیکٹر میں کنٹرول لائن کے قریب انڈین فوج کے ایک اڈے پر شدت پسندوں کے حملے کے بعد پاکستان اور ہندوستان کے تعلقات میں ایک بار پھر کشیدگی پیداہوگئی ہے۔جنرل اسمبلی سے خطاب میں وزیراعظم نوازشریف کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستان نے مربوط پالیسی بنائی ہے اور اس کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔پاکستان کا ضربِ عضب آپریشن دہشت گردی کے خلاف پوری دنیا کی کامیاب ترین مہم ہے۔انھوں نے کہا کہ افغانستان میں 15سالہ خانہ جنگی کے بعد بین الاقوامی برادری نے تسلیم کیا ہے کہ اس مسئلے کا حل افغان طالبان اور افغان حکومت کے درمیان بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔افغان صدر کی درخواست پر پاکستان نے مفاہمتی عمل میں کردار ادا کیاہے ۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پرامید ہے کہ افغان پناہ گزین اپنی مرضی اور باعزت طریقے سے اپنے وطن لوٹ جائیں گے۔